سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جعلی انہدامی کارروائیوں کا سہارا لینے لگی

 کراچی(رپورٹ: سید جنید احمد) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جعلی انہدامی کارروائیوں کا سہارا لینے لگی پرانی عمارتوں کو زیر تعمیراوربغیر انہدامی کارروائی کی جانے والی عمارتوں کو منہدم کیئے جانے کا دعوہ کر دیا گیاـ ڈائریکٹر جنرل ماموں بن گئے ''ریاست'' نے حقائق نکال لیئے

 منہدم کی جانے والی عمارتیں آج بھی موجود، انہدامی کارروائیوں میں سوالات اٹھنے لگے ـ تفصیلات کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب منگل کے روز جاری پریس ریلیز میں ضلع وسطی میں واقع فیڈرل بی ایریا کے مختلف بلاکس میں چھ پلاٹوں پر غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرنے کا دعوہ کیا گیا تاہم جب نمائندہ نے مزکورہ پلاٹوں کا سروے کیا تو مذکورہ عمارتوں پر انہدامی کارروائیوں کا بھانڈا پھوٹ گیا پریس ریلیز میں پلاٹ نمبر 591.R بلاک 14کی پہلی اور دوسری منزل کو منہدم کرنے کا دعوہ کیا گیاجبکہ مذکورہ ایک منزلہ عمارت تقریبا چالیس سال قبل تعمیر کی گئی ہے اور رہائش بھی موجود ہے اور دوسری منزل کیلئے کسی قسم کی تعمیراتی سرگرمی نہیں دیکھی گئی

 ـ پلاٹ نمبر 592.R بلاک 14پر بھی دوسری منزل کو منہدم کرنے کا دعوہ کیا گیا جبکہ مذکورہ  دو منزلہ عمارت بھی تقریبا چار سال قبل تعمیر کی گئی تھی مذکورہ عمارت پر کسی  بھی قسم کی تعمیراتی سرگرمی نہیں دیکھی گئی جبکہ عمارت پر رہائش موجود ہے ـ پلاٹ نمبر444/443 بلاک 14 پر بھی کالم اور بیمز کو مسمار کرنے کا دعوہ کیا گیا ہے تاہم مزکورہ زیر تعمیر عمارت پر بھی  انہدامی کارروائی جعلی نکلی ـ گزشتہ روز بھی مزکورہ عمارت پر کالمز اور بیمز کی تعمیراتی سرگرمی جاری تھی ـ عمارت کے سروے کے دوران اپنے آپ کو ٹھکیدار  ظاہر کرنے والے شخص نے کسی   بھی قسم کی انہدامی کارروائی سے انکار کیا ـ پلاٹ نمبر 187/186بلاک8 پر بھی تیسری منزل کو منہدم کرنے کا دعوہ کیا گیا ہے جبکہ مذکورہ عمارت پر بھی نمائشی انہدامی کارروائی کر کے فائلوں کا حصہ بنا لیا گیا ـ ضلع وسطی میں رہائشی حیثیت تبدیل کر کے درجنوں پورشنز اور اضافی منزلیں متعلقہ عملے کی مبینہ سرپرستی میں زیر تعمیر ہیں تاہم ڈائریکٹر جنرل  ایس بی سی اے سلیم کھوڑو کو کارکردگی دیکھانے کیلئے آفسران اور ڈیمالیشن عملے نے جعلی انہدامی کارروائیوں کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے ـ جس کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سےجاری ہونے والی پریس ریلیزمیں دیگر ضلعوں میں کی جانے والی انہدامی کارروائیاں مشکوک ہونے لگی ہیں ـ اس حوالے سے گریڈ 19کے ایماندارڈائریکٹر ڈیمالیشن صامد علی خان نے نمائندہ سے تفصیلات لے کر متعلقہ جعل سازی پر انکوائری شروع کر دی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈی جی ایس بی سی اے سرکاری جعلسازوں کے خلاف کیا تادیبی کارروائی کرتے ہیں ــ

Comments